بخیر و خوبی

قسم کلام: متعلق فعل

معنی

١ - خیریت کے ساتھ، سکون و اطمینان کے ساتھ، خوش اسلوبی سے۔ "میری دعا ہے کہ تم اپنی آئندہ زندگی مچل کے ساتھ بخیر و خوبی بسر کرو۔"      ( ١٩١٢ء، شہید مغرب، ٨ )

اشتقاق

عربی زبان سے ماخوذ اسم 'خیر' اور فارسی اسم 'خوبی' کے درمیان حرف عطف 'واؤ' لانے سے مرکب عطفی خیر و خوبی بنا اور پھر فارسی حرف جار 'ب' بطور سابقہ لگانے سے 'بخیر و خوبی' مرکب بنا، بطور متعلق فعل مستعمل ہے۔ ١٩١٢ء میں "شہید مغرب" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - خیریت کے ساتھ، سکون و اطمینان کے ساتھ، خوش اسلوبی سے۔ "میری دعا ہے کہ تم اپنی آئندہ زندگی مچل کے ساتھ بخیر و خوبی بسر کرو۔"      ( ١٩١٢ء، شہید مغرب، ٨ )